کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں
دشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیں
کیسی شب ہے ایک اک کروٹ پہ کٹ جاتا ہے جسم
میرے بستر میں یہ تلواریں کہاں سے آ گئیں
خواب شاید پھر ہوا آنکھوں میں کوئی سنگسار
زیر مژگاں خون کی دھاریں کہاں سے آ گئیں
شاید اب تک مجھ میں کوئی گھونسلہ آباد ہے
گھر میں یہ چڑیوں کی چہکاریں کہاں سے آ گئیں
ساتھ ہے ملنا اگر چاہوں تو ملتا بھی نہیں
ایک گھر میں اتنی دیواریں کہاں سے آ گئیں
رکھ دیا کس نے مرے شانے پہ اپنا گرم ہاتھ
مجھ شکستہ پا میں رفتاریں کہاں سے آ گئیں
غزل
کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں
ظفر گورکھپوری