EN हिंदी
کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھا | شیح شیری
kaun sa wo zaKHm-e-dil tha jo tar-o-taza na tha

غزل

کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھا

عرش صہبائی

;

کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھا
زندگی میں اتنے غم تھے جن کا اندازہ نہ تھا

ہم نکل سکتے بھی تو کیوں کر حصار ذات سے
صرف دیواریں ہی دیواریں تھیں دروازہ نہ تھا

اس کی آنکھوں سے نمایاں تھی محبت کی چمک
اس کے چہرے پر نئی تہذیب کا غازہ نہ تھا

اتنی شدت سے کبھی آیا نہ تھا اس کا خیال
زخم دل پہلے کبھی اتنا تر و تازہ نہ تھا

اس کی ہر اک سوچ میں ہے اک مسلسل انتشار
اس طرح بکھرا ہوا اس دل کا شیرازہ نہ تھا

دور کر دے گا زمانے سے مجھے میرا خلوص
مجھ کو اپنی اس صلاحیت کا اندازہ نہ تھا

عرشؔ ان کی جھیل سی آنکھوں کا اس میں کیا قصور
ڈوبنے والوں کو گہرائی کا اندازہ نہ تھا