EN हिंदी
کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا | شیح شیری
kaun kahta hai ki marna mera achchha na hua

غزل

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا

عاشق اکبرآبادی

;

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا
فکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہوا

واہ اس نالہ پہ اور اتنی عدو کو نازش
بزم میں اور تو کیا حشر بھی برپا نہ ہوا

سیر گلشن سے رہے شاد ولیکن افسوس
اب کے معلوم کچھ احوال قفس کا نہ ہوا

سو گئے سنتے ہی سنتے وہ دل زار کا حال
جب کو ہم سمجھے تھے افسوں وہی افسانہ ہوا

ربط کچھ داغ و جگر کا تو ہے چسپاں عاشقؔ
ورنہ اس دور میں کوئی بھی کسی کا نہ ہوا