EN हिंदी
کشتی ہے تباہ دل شدوں کی | شیح شیری
kashti hai tabah dil-shudaon ki

غزل

کشتی ہے تباہ دل شدوں کی

جوشش عظیم آبادی

;

کشتی ہے تباہ دل شدوں کی
لینا خبر اپنے بے خودوں کی

اے سرو سہی کے ایک گلشن
چلیو مت چال خوش قدوں کی

کیوں کر وو کرے سلوک ہم سے
خاطر ہے عزیز حاسدوں کی

تعمیر کنشت دل ہوا جب
زاہد نہ بنا تھی مسجدوں کی

کہنا مت مان واعظوں کا
بیہودہ ہے بات بیہدوں کی

داڑھی نہ رہے گی شیخ صاحب
صحبت میں نہ بیٹھو امردوں کی