EN हिंदी
کر کے بیمار دی دوا تو نے | شیح شیری
kar ke bimar di dawa tu ne

غزل

کر کے بیمار دی دوا تو نے

الطاف حسین حالی

;

کر کے بیمار دی دوا تو نے
جان سے پہلے دل لیا تو نے

رہرو تشنہ لب نہ گھبرانا
اب لیا چشمۂ بقا تو نے

شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا
آ کے مسجد سے کیا لیا تو نے

دور ہو اے دل مآل اندیش
کھو دیا عمر کا مزا تو نے

ایک بیگانہ وار کر کے نگاہ
کیا کیا چشم آشنا تو نے

دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیر
یاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے

خوش ہے امید خلد پر حالیؔ
کوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے