کنار دشت اکیلے ٹھہرنے پر ہوگا
دلوں میں خوف کا اندازہ ڈرنے پر ہوگا
سمجھتا ہے مری عادت وہ حسن بے پروا
سمیٹ لوں گا اسے جب بکھرنے پر ہوگا
پیام دے نہ سکی گل کا بوئے سست خرام
نہ جانے اب کہاں موسم گزرنے پر ہوگا
کہیں پہ کائی کہیں حبس اور کہیں دلدل
یہ حال شہر کا پانی اترنے پر ہوگا
میں سوچتا ہوں درختوں کی چھاؤں میں شاہیںؔ
کہ طے تمام سفر صرف کرنے پر ہوگا
غزل
کنار دشت اکیلے ٹھہرنے پر ہوگا
جاوید شاہین

