EN हिंदी
کم سے کم اپنا بھرم تو نہیں کھویا ہوتا | شیح شیری
kam se kam apna bharam to nahin khoya hota

غزل

کم سے کم اپنا بھرم تو نہیں کھویا ہوتا

راشد آذر

;

کم سے کم اپنا بھرم تو نہیں کھویا ہوتا
دل کو رونا تھا تو تنہائی میں رویا ہوتا

صبح سے صبح تلک جاگتے ہی عمر کٹی
ایک شب ہی سہی بھر نیند تو سویا ہوتا

ڈھونڈھنا تھا مرے دل کو تو کبھی پلکوں سے
میرے اشکوں کے سمندر کو بلویا ہوتا

دیکھنا تھا کہ نظر چبھتی ہے کیسے تو کبھی
اس کے پیکر میں نگاہوں کو گڑویا ہوتا

جب یقیں اس کو نہ پانے کا ہوا تو جانا
یہی بہتر تھا کہ پا کر اسے کھویا ہوتا

نہ ملا کوئی بھی غم بانٹنے والا ورنہ
اپنا بوجھ اپنے ہی کاندھوں پہ نہ ڈھویا ہوتا

اس کو پوجا نہ کبھی جس کو تراشا آذرؔ
نام اس طرح تو اپنا نہ ڈبویا ہوتا