EN हिंदी
کل مے کدے کی جانب آہنگ محتسب ہے | شیح شیری
kal mai-kade ki jaanib aahang-e-mohtasib hai

غزل

کل مے کدے کی جانب آہنگ محتسب ہے

بقا اللہ بقاؔ

;

کل مے کدے کی جانب آہنگ محتسب ہے
درپیش مے کشوں کو پھر جنگ محتسب ہے

ہوتا ہے شیشۂ دل چور اس کی گفتگو سے
یا رب یہ پند ناصح یا سنگ محتسب ہے

منہ سرخ ہو رہا ہے بیم مغاں سے اس کا
جو کچھ ہے رنگ مینا سو رنگ محتسب ہے

از بس گراں ہے اس پر مینا سے مے کی قلقل
پڑھنا بھی چار قل کا اب ننگ محتسب ہے

ہرگز بقاؔ نہ رہیو دور فلک سے غافل
مستوں کی نت کمیں میں سرچنگ محتسب ہے