کیسی بلائے جاں ہے یہ مجھ کو بدن کیے ہوئے
مٹی کے اس بدیس کو اپنا وطن کیے ہوئے
میرے لب وجود پر سوکھے پڑے ہوئے ہیں لفظ
موجوں زمانہ ہو گیا اس سے سخن کیے ہوئے
آیا تھا اک گل وصال دامن ہجر میں کبھی
میں ہوں اس ایک پھول کو اپنا چمن کیے ہوئے
اس کی طرف سے آج تک شور نہ خامشی کوئی
کب سے ہوں اس خلا کی سمت روئے سخن کیے ہوئے
غزل
کیسی بلائے جاں ہے یہ مجھ کو بدن کیے ہوئے
فرحت احساس

