EN हिंदी
کہیں سکوں نہ ملا دل کو بزم یار کے بعد | شیح شیری
kahin sukun na mila dil ko bazm-e-yar ke baad

غزل

کہیں سکوں نہ ملا دل کو بزم یار کے بعد

فنا بلند شہری

;

کہیں سکوں نہ ملا دل کو بزم یار کے بعد
کہ بیقرار رہی زندگی قرار کے بعد

اٹھے نہ پاؤں محبت کی رہ گزار کے بعد
کوئی قیام نہیں ہے ترے دیار کے بعد

قبائیں چاک تو کرتے رہیں گے دیوانے
کبھی بہار سے پہلے کبھی بہار کے بعد

شراب عشق کا میکش رہا سدا مدہوش
تیری نگاہ کی مستی چڑھی خمار کے بعد

نگاہ شوق نے دونوں جہاں کو چھان لیا
ملا نہ رنگ کوئی جلوہ گہہ یار کے بعد

طلب ہے اس کی تو ہو جاؤ قتل عشق فناؔ
ملی ہیں عظمتیں منصور کو بھی دار کے بعد