EN हिंदी
کبھی خدا کبھی خود سے سوال کرتے ہوئے | شیح شیری
kabhi KHuda kabhi KHud se sawal karte hue

غزل

کبھی خدا کبھی خود سے سوال کرتے ہوئے

مبین مرزا

;

کبھی خدا کبھی خود سے سوال کرتے ہوئے
میں جی رہا ہوں مسلسل ملال کرتے ہوئے

مگن تھا کار محبت میں اس طرح کہ مجھے
خبر نہ ہو سکی اپنا یہ حال کرتے ہوئے

کسے بتاؤں گزارا ہے میں نے بھی اک دور
مثال ہوتے ہوئے اور مثال کرتے ہوئے

وہ جذب و شوق ہی آخر عذاب جاں ٹھہرا
حرام ہو گیا جینا حلال کرتے ہوئے

نہ کوئی رنج ان آنکھوں میں تھا دم رخصت
نہ تھی زبان میں لکنت سوال کرتے ہوئے

یہ کام اس کے لیے جیسے مسئلہ ہی نہ تھا
وہ پر سکون تھا کار محال کرتے ہوئے

تمام عمر جو لو دیں مجھے رکھیں آباد
گیا وہ ایسے غموں سے نہال کرتے ہوئے