کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا
خانۂ آئنہ میں تجھ کو نظر بند کیا
کیا نزاکت ہے صبا اس کی کمر کی جس نے
صبح دم تار رگ گل سے کمر بند کیا
دل کا احوال جو کھلتا نہیں تو نے اے چشم
قاصد اشک کو آنے سے مگر بند کیا
راحت خواب عدم دیکھ کے سب نے یک دست
نقش پا سے کف ہر خاک میں دربند کیا
دیکھ معروفؔ کہ اس شوخ نے شب کو یک دست
طائر رنگ حنا کو بہ ہنر بند کیا
غزل
کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا
معروف دہلوی

