EN हिंदी
کب تک پھرنا غاروں اور گپھاؤں میں | شیح شیری
kab tak phirna ghaaron aur guphaon mein

غزل

کب تک پھرنا غاروں اور گپھاؤں میں

عشرت آفریں

;

کب تک پھرنا غاروں اور گپھاؤں میں
آؤ واپس لوٹ چلیں اب گاؤں میں

صحرا میں اک ریت محل تعمیر کریں
سکھ سے بیٹھیں انگوروں کی چھاؤں میں

روح بھٹکتی ہے باغی شہزادی کی
سنتے ہیں ان خالی محل سراؤں میں

مجھ میں چھٹی حس جاگی تازہ مٹی کی
طغیانی ہے پھر پانچوں دریاؤں میں

گیا تو سردار کے باغ میں قتل ہوئی
چرواہا سوتا ہے نیم کی چھاؤں میں

ایک نے بیٹی ایک نے بیٹا جنم دیا
کتنا فرق ہے ہم دونوں کی ماؤں میں