EN हिंदी
کب سے مانگ رہے ہیں تم سے | شیح شیری
kab se mang rahe hain tum se

غزل

کب سے مانگ رہے ہیں تم سے

عفیف سراج

;

کب سے مانگ رہے ہیں تم سے
ساغر سے مینا سے خم سے

ہم بھی کچھ کچھ کھوئے ہوئے ہیں
آپ بھی لگتے ہیں گم سم سے

جاگیں گے بے جان سے جذبے
تیرے دہن کے حرف قم سے

دوش فرس سے دیکھیں نیچے
ایک بندھا ہے دل بھی سم سے

سن لو فسانہ آنکھ کا میری
دریا سے ندی سے قلزم سے