EN हिंदी
کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ | شیح شیری
kaam mein apne zuhur-e-haq hai aap

غزل

کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ

مصحفی غلام ہمدانی

;

کام میں اپنے ظہور حق ہے آپ
حضرت آدم کے تو ماں تھی نہ باپ

ان کو دے کچھ، مت ظرافت ان سے کر
لے نہ اے ناداں اتیتوں کے شراپ

ہم تہی دستی میں بھی کچھ کم نہیں
ہاتھ میں راجا کے ہو سونے کی چھاپ

آہ و نالے کا سمجھ ٹک زیر و بم
سخت مشکل ان سروں کی ہے الاپ

ہر کوئی چاہے گا اپنی مغفرت
حشر میں سب کو پڑے گی آپا دھاپ

مصحفیؔ مت اس کے کوچے سے نکل
جب تلک دم ہے زمیں تو واں کی ناپ