EN हिंदी
کام آساں ہے مگر دیکھیے دشوار بھی ہے | شیح شیری
kaam aasan hai magar dekhiye dushwar bhi hai

غزل

کام آساں ہے مگر دیکھیے دشوار بھی ہے

ہمدم کاشمیری

;

کام آساں ہے مگر دیکھیے دشوار بھی ہے
آگے دروازے کے رکھی ہوئی دیوار بھی ہے

دینے والے سے مجھے کوئی شکایت کیوں ہے
راہ میں دھوپ بھی ہے سایۂ اشجار بھی ہے

قتل کر کے جو مجھے سائے میں پھینک آیا ہے
لوگ کہتے ہیں وہی میرا طرفدار بھی ہے

تجھ کو بس اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے
آئنہ میں کہیں حیرت کہیں زنگار بھی ہے

کیوں بھلا وقت کا نقصان کرو گے پیارے
جو یہاں اب ہے تماشا وہی اس پار بھی ہے

میرے آبا سے مجھے کیا نہ ملا ہے ہمدمؔ
طاق میں دیکھیے مصحف بھی ہے تلوار بھی ہے