EN हिंदी
کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ | شیح شیری
kakrochon makDiyon ki fasl aa kar tu bhi dekh

غزل

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ

عتیق اللہ

;

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ
عمر بھر دیکھا جو میں نے وہ گھڑی بھر تو بھی دیکھ

اک مسلسل بے وقوفی کا عمل ہے زندگی
میرے حصے میں جو آیا وہ مقدر تو بھی دیکھ

دوسرے کے تجربے پر ٹیڑھی بنیادیں نہ رکھ
بلب کو اپنی ہتھیلی سے پچک کر تو بھی دیکھ

خواہشیں کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے لگیں
خودکشی کی وارداتوں کا یہ منظر تو بھی دیکھ

دیکھ اندر کی رگڑ کتنی اذیت ناک ہے
تنگ کا بوسی خلاؤں میں اتر کر تو بھی دیکھ