EN हिंदी
جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں | شیح شیری
junun se khelte hain aagahi se khelte hain

غزل

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

محبوب خزاں

;

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں
یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں

نگاہ میکدہ سب سے زیادہ قابل رحم
وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں

تمام عمر یہ افسردگان محفل گل
کلی کو چھیڑتے ہیں بیکلی سے کھیلتے ہیں

فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا
کسی سے کھیل چکے ہیں کسی سے کھیلتے ہیں

نہا رہی ہے دھنک زندگی کے سنگم پر
پرانے رنگ نئی روشنی سے کھیلتے ہیں

جو کھیل جانتے ہیں ان کے اور ہیں انداز
بڑے سکون بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں

خزاںؔ کبھی تو کہو ایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں