EN हिंदी
جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں | شیح شیری
judai ke sadmon ko Tale hue hain

غزل

جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں

منیرؔ  شکوہ آبادی

;

جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں
چلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیں

زمانے کی فکروں نے کھایا ہے ہم کو
ہزاروں کے منہ کے نوالے ہوئے ہیں

گزند اپنے ہاتھوں سے پہنچا ہے ہم کو
یہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں

نہیں نام کو ان میں بوئے مروت
یہ گل رو مرے دیکھے بھالے ہوئے ہیں

نہیں اعتبار ایک دم زندگی کا
ازل سے قضا کے حوالے ہوئے ہیں

ہزاروں کو تھے سرفروشی کے دعوے
تصدق فدا ہونے والے ہوئے ہیں

ہم آواز ہیں عیش و غم دونوں لیکن
ترانے یہ ٹھہرے وہ نالے ہوئے ہیں

منیرؔ اب رہ حق میں لغزش نہ ہوگی
ید اللہ مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں