EN हिंदी
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا | شیح شیری
jo tumhaare lab-e-jaan-baKHsh ka shaida hoga

غزل

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

اکبر الہ آبادی

;

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا
پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے
اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت
نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر
ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا