EN हिंदी
جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم | شیح شیری
jo rah-e-mulaqat thi so jaan gae hum

غزل

جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم

جرأت قلندر بخش

;

جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
اے خضر تصور ترے قربان گئے ہم

جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہر
جس بزم میں با حال پریشان گئے ہم

اس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیں
صد شکر کہ بے منت دربان گئے ہم

کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات
جرأتؔ کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر
جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم