EN हिंदी
جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں | شیح شیری
jo pari bhi ru-ba-ru ho to pari ko main na dekhun

غزل

جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں

مصحفی غلام ہمدانی

;

جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوں
مری آنکھیں بند کر دو کہ کسی کو میں نہ دیکھوں

دل گرم خون الفت مرے بر میں رکھ دیا ہے
سوئے گل تو ملتفت ہوں جو کلی کو میں نہ دیکھوں

مرا دل لگا ہے جس سے مرا جی گیا ہے جس پر
مری کیوں کہ زندگی ہو جو اسی کو میں نہ دیکھوں

مری تجھ سے زندگی ہے تو مرا جگر ہے جی ہے
کسے دیکھ کر جیوں پھر جو تجھی کو میں نہ دیکھوں

مری کیوں کہ ہو تسلی تو ہی مصحفیؔ بتا پھر
دل شب بھی اس صنم کی جو گلی کو میں نہ دیکھوں