جو بھی کچھ طاق خیالات پہ رہ جاتے ہیں
زیست کے خیمے اسی بات پہ رہ جاتے ہیں
شمع ساعت نے بہت عکس تراشا لیکن
کچھ ہیولے در ظلمات پہ رہ جاتے ہیں
دل نے تو لشکر شاداب سنبھالا ہے مگر
خار و خس پھر بھی مکانات پہ رہ جاتے ہیں
تشنگی ایسی کہ دریا کا لہو پی کر بھی
صبر کے قرض مکافات پہ رہ جاتے ہیں
رقص ناہید سر شاخ تماشہ نہ ہوا
آئینے ہوش کے جب ہاتھ پہ رہ جاتے ہیں
کب تلک سینۂ صد چاک کا ماتم ہوگا
سب رکے تیشۂ حالات پہ رہ جاتے ہیں
کیسے تاریخ بنے کوئی حکایت عامرؔ
حاشیے آج بھی صفحات پہ رہ جاتے ہیں
غزل
جو بھی کچھ طاق خیالات پہ رہ جاتے ہیں
عامر نظر

