جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ
اک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ
منزل یہیں ہے آم کے پیڑوں کی چھاؤں میں
اے شہسوار گھوڑے سے نیچے اتر کے دیکھ
ٹوٹے پڑے ہیں کتنے اجالوں کے استخواں
سایہ نما اندھیرے کے اندر اتر کے دیکھ
پھولوں کی تنگ دامنی کا تذکرہ نہ کر
خوشبو کی طرح موج صبا میں بکھر کے دیکھ
تجھ پر کھلیں گے موت کی سرحد کے راستے
ہمت اگر ہے اس کی گلی سے گزر کے دیکھ
دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں
تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ
غزل
جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ
عادل منصوری