جینا ہے تو جینے کی پہلی سی ادا مانگو
فرعون سے ٹکراؤ موسیٰ سے عصا مانگو
ہر راہ میں خود چھوڑو قدموں کے نشاں اپنے
توہین ہے غیروں سے نقش کف پا مانگو
مانگوں گا بہت کچھ میں سوچا تو یہ تھا لیکن
لب ہو گئے پتھر کے جب اس نے کہا مانگو
راضی بہ رضا رہنا ہے شیوۂ اہل دل
مانگو تو بہر صورت مرضئ خدا مانگو
در پر کبھی غیروں کے جو تم کو نہ جھکنے دے
توفیق الٰہی سے کچھ ایسی انا مانگو
کس حال میں رکھا ہے دیکھیں تو ہمیں دل میں
اس شعلۂ رنگیں سے آئینہ ذرا مانگو
مستی میں طفیلؔ اس نے مجھ کو یہ دعا دی تھی
اللہ کرے پوری تم جو بھی دعا مانگو

غزل
جینا ہے تو جینے کی پہلی سی ادا مانگو
طفیل احمد مدنی