EN हिंदी
جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑ | شیح شیری
ji rahe ya na rahe har qadam-e-yar na chhoD

غزل

جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑ

قاسم علی خان آفریدی

;

جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑ
اے پتنگے تو کبھی شمع کا انوار نہ چھوڑ

شمع تجھ کو بھی مناسب تو وہاں تک جل جا
سر سے تا پائے تلک رشتۂ زنار نہ چھوڑ

لب شیریں سے اگر ہو نہ ترا لب شیریں
کوہ کن تو بھی تو اب دامن کہسار نہ چھوڑ

لیلا ہاتھ آوے نہ آوے ملے جو ناقہ سوار
حال غم سے وہ کرے منع پر اظہار نہ چھوڑ

لفظ تو نے جو کہے ہیں وو ہی حق اے منصور
کلمۃ الحق کو مگر تا بہ دم دار نہ چھوڑ

اے زلیخا مہ کنعاں کو لے دے مال متاع
پیش بایع کے کوئی مشتری زنہار نہ چھوڑ

اس نصیحت کو مری مان بقول افریدیؔ
جی رہے یا نہ رہے پر قدم یار نہ چھوڑ