EN हिंदी
جی میں کیا کیا مری اماہا تھا | شیح شیری
ji mein kya kya meri umaha tha

غزل

جی میں کیا کیا مری اماہا تھا

مرزا اظفری

;

جی میں کیا کیا مری اماہا تھا
پر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھا

نبھی جب تک کہ ہم نباہ سکے
آپ نے ہم کو کب نباہا تھا

لقے دو چار ساتھ جاتے تھے
کیسا کل رات ہی ہی ہاہا تھا

چکی راہا تھا کیا بلا یہ رقیب
چکی سا منہ تو اس کا راہا تھا

کوچے تیرے میں رات کو جو گئے
بھولے ہم واں جہاں دوراہا تھا

تم جھٹک گئے کچھ ان دنوں پیارے
ٹوک کس نے تمہیں سراہا تھا

تم پہ تھا جب کہ عالم تجرید
ان دنوں میں بھی بن بیاہا تھا

جس گلی بیچ جا نکلتے تھے
تم پر اور ہم پہ آہا آہا تھا

آ کے تجھ سے جو تھا ملا لڑ کر
پایا کیا اظفریؔ نے لاہا تھا