EN हिंदी
جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں | شیح شیری
ji ko rog laga baiTha ji ke rog se marta hun

غزل

جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں

ہری چند اختر

;

جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں
اس میں کسی سے شکوہ کیا اپنی کرنی بھرتا ہوں

ترک گناہ اے واعظ جی دل سے نہیں مجبوری ہے
آپ خدا سے ڈرتے ہیں میں دنیا سے ڈرتا ہوں

دنیا سے کچھ فیض نہ تھا دنیا کو تج بیٹھا ہوں
اللہ سے امیدیں ہیں اللہ اللہ کرتا ہوں

دور تو ہٹ جاؤں لیکن فکر محبت نے مارا
بے حد نازک رشتہ ہے ٹوٹ نہ جائے ڈرتا ہوں

کاوش پیہم آخر تک حاصل مرگ مایوسی
یہ بھی کوئی جینا ہے کس جینے پر مرتا ہوں