جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے
ہماری زندگی کیا زندگی ہے
یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل
یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے
یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی
نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے
یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد
یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے
خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو
جب اس کی ابتدا دیوانگی ہے
اسے خطرہ ہے صرف اک فصل گل کا
خزاں کو کس قدر آسودگی ہے
غزل
جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے
پروین فنا سید

