EN हिंदी
جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے | شیح شیری
jidhar nazren uThaen tirgi hai

غزل

جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے

پروین فنا سید

;

جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے
ہماری زندگی کیا زندگی ہے

یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل
یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے

یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی
نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے

یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد
یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے

خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو
جب اس کی ابتدا دیوانگی ہے

اسے خطرہ ہے صرف اک فصل گل کا
خزاں کو کس قدر آسودگی ہے