جھمکتے جھومتے موسم کا دھوکا کھا رہا ہوں میں
بہت لہرائے ہیں بادل مگر پیاسا رہا ہوں میں
ہوئی جب دھوپ کی بارش مرے سر پر تو کیا ہوگا
درختوں کے گھنے سایوں میں بھی سنولا رہا ہوں میں
وہی کچھ کر رہا ہوں جو کیا میرے بزرگوں نے
نئے ذہنوں پہ اپنے تجربے برسا رہا ہوں میں
یہ تہمت خاک تہمت ہے مرے ہم جرم ہمسایو
تمہاری عمر میں تم سے کہیں رسوا رہا ہوں میں
خیال آتا ہے بازاروں کی رونق دیکھ کر مجھ کو
بھرے دریا میں تنکا بن کے بہتا جا رہا ہوں میں
تری آغوش چھوٹی تو ملی وہ بد دعا مجھ کو
کہ اب اپنی ہی بانہوں میں سمٹتا جا رہا ہوں میں
قتیلؔ اب تک ندامت ہے مجھے ترک محبت پر
ذرا سا جرم کر کے آج بھی پچھتا رہا ہوں میں
غزل
جھمکتے جھومتے موسم کا دھوکا کھا رہا ہوں میں
قتیل شفائی

