جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
میری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیں
راہ گم کردہ ہوں کچھ اس کو خبر ہے کہ نہیں
اس کی پلکوں پہ ستاروں کا گزر ہے کہ نہیں
دل سے ملتی تو ہے اک راہ کہیں سے آ کر
سوچتا ہوں یہ تری راہ گزر ہے کہ نہیں
تیز ہو دست ستم دے بھی شراب اے ساقی
تیغ گردن پہ سہی جام سپر ہے کہ نہیں
میں جو کہتا تھا سو اے رہبر کوتاہ خرام
تیری منزل بھی مری گرد سفر ہے کہ نہیں
اہل تقدیر یہ ہے معجزۂ دست عمل
جو خزف میں نے اٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں
دیکھ کلیوں کا چٹکنا سر گلشن صیاد
سب کی اور سب سے جدا اپنی ڈگر ہے کہ نہیں
ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروحؔ
زمزمہ سنج مرا خون جگر ہے کہ نہیں

غزل
جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیں
مجروح سلطانپوری