EN हिंदी
جب تری یاد کے جگنو چمکے | شیح شیری
jab teri yaad ke jugnu chamke

غزل

جب تری یاد کے جگنو چمکے

احمد فراز

;

جب تری یاد کے جگنو چمکے
دیر تک آنکھ میں آنسو چمکے

سخت تاریک ہے دل کی دنیا
ایسے عالم میں اگر تو چمکے

ہم نے دیکھا سر بازار وفا
کبھی موتی کبھی آنسو چمکے

شرط ہے شدت احساس جمال
رنگ تو رنگ ہے خوشبو چمکے

آنکھ مجبور تماشا ہے فرازؔ
ایک صورت ہے کہ ہر سو چمکے