جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگا
انسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگا
میں اور ترا سودا تو اور یہ استغنا
شاید مجھے فطرت نے مجبور کیا ہوگا
اک دائرہ ذروں کا خورشید طریقت تھا
شاید وہ تمہارا ہی نقش کف پا ہوگا
تم درد کے خالق ہو میں درد کا بندہ ہوں
جب نام لیا ہوگا دل تھام لیا ہوگا
سیمابؔ جب اس دل میں تصویر نہیں ان کی
یہ آئینہ دھندلا ہے یہ آئینہ کیا ہوگا

غزل
جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگا
سیماب اکبرآبادی