EN हिंदी
جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی | شیح شیری
jab se gaya hai wo mera iman-e-zindagi

غزل

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی
کافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگی

حسرت وصال کی ہے گلو گیر ہجر میں
ورنہ ابھی میں پھاڑوں گریبان زندگی

مرتا جو ہجر میں تو نہ ملتا میں یار سے
مجھ پر حضورؔ بس کہ ہے احسان زندگی