جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی
کافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگی
حسرت وصال کی ہے گلو گیر ہجر میں
ورنہ ابھی میں پھاڑوں گریبان زندگی
مرتا جو ہجر میں تو نہ ملتا میں یار سے
مجھ پر حضورؔ بس کہ ہے احسان زندگی
غزل
جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگی
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

