EN हिंदी
جب پیارا گلہ سناتا ہے | شیح شیری
jab piyara gila sunata hai

غزل

جب پیارا گلہ سناتا ہے

علیم اللہ

;

جب پیارا گلہ سناتا ہے
عشق تازہ بدن میں آتا ہے

ہوش جاتا ہے سر سوں سب یک بار
جب گھونگھٹ کھول مکھ دکھاتا ہے

تب عدو دیکھ کر مجھے میرا
مار کے مثل پیچ کھاتا ہے

خاک ہوتا ہے بلکہ جل اس وقت
مجھ کو خلوت میں جب بلاتا ہے

مجھ کو لے جا پیاس اپس گھر میں
بادۂ وصل پھر پلاتا ہے

کر مجازی میں فن حقیقت کا
حاسداں کے دلاں جلاتا ہے

شعر تیرا عجب علیمؔ اللہ
شعلۂ عشق کو چتاتا ہے