EN हिंदी
جب پری رو حجاب کرتے ہیں | شیح شیری
jab pari-ru hijab karte hain

غزل

جب پری رو حجاب کرتے ہیں

داؤد اورنگ آبادی

;

جب پری رو حجاب کرتے ہیں
دل کے درپن کوں آب کرتے ہیں

گردش چشم کا دکھا یک دور
ہم کوں مست شراب کرتے ہیں

آتش عشق کی اگن سوں جلا
عاشقاں کوں کباب کرتے ہیں

تاب دکھلا جمال روشن کا
آرسی غرق آب کرتے ہیں

بیت ابرو پہ تل سوں کاجل کے
نقطۂ انتخاب کرتے ہیں

عرق گل رخاں کو دیکھ عشاق
میل عطر گلاب کرتے ہیں

دیکھ اس کے حنا کوں مردم چشم
خون دل سوں خضاب کرتے ہیں

سن سخنداں تری غزل داؤدؔ
آفریں کر خطاب کرتے ہیں