EN हिंदी
جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا | شیح شیری
jab manzilon wahm tha na shab ka

غزل

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا

شہرت بخاری

;

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا
میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا

جس شہر میں بس رہے تھے ہم تم
وہ شہر اجڑ چکا ہے کب کا

تھی پہلے عجب جدائی ان کی
اب خود سے فراق ہے غضب کا

اے محو طلسم روز روشن
درپیش ابھی سفر ہے شب کا

ہر گل سے بھڑک رہے ہیں شعلے
یہ عہد مگر ہے بو لہب کا

تم کاہے کو اکڑ رہے ہو تنہا
شہرتؔ یہ معاملہ ہے سب کا