جب کبھی شور جہاں ہوتا ہے
میرے ہونے کا گماں ہوتا ہے
جبر ہے مجھ پہ نظام فطرت
مجھ پہ ہر لمحہ گراں ہوتا ہے
صبح ہوتی نہیں پہلے جیسی
شب گرفتار سماں ہوتا ہے
دھند میں کھوتے ہیں منظر سارے
پیچ در پیچ دھواں ہوتا ہے
شام تا صبح چراغاں کر کے
دشت میں نوحۂ جاں ہوتا ہے
وقت پھیلاتا ہے دامن اپنا
آگ کا دریا رواں ہوتا ہے
مجھ کو آزاد کر اے دانش نو
دل گرفتار بتاں ہوتا ہے
غزل
جب کبھی شور جہاں ہوتا ہے
جمال اویسی