EN हिंदी
جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں | شیح شیری
jab kabhi hum tere kuche se guzar jate hain

غزل

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں

شکیل بدایونی

;

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں
لوح ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں

حسن سے لیجئے تنظیم دو عالم کا سبق
صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں

ہم نے پایا ہے محبت کا خمار ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں

اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جناب واعظ
نام کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں

مے کدہ بند مقفل ہیں در دیر و حرم
دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں