EN हिंदी
جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے | شیح شیری
jab ghar se wo baad-e-mah nikle

غزل

جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے

مصحفی غلام ہمدانی

;

جب گھر سے وہ بعد ماہ نکلے
منہ سے مرے کیوں نہ آہ نکلے

دل وہ ہے کہ جس سے چاہ نکلے
منہ وہ ہے کہ جس سے آہ نکلے

زنداں کی تو اپنے سیر تو کر
شاید کوئی بے گناہ نکلے

مانیؔ سے کھنچی نہ خط کی تصویر
لاکھوں ورق سیاہ نکلے

خجلت یہ ہوئی کہ محکمے سے
شرمندہ مرے گواہ نکلے

رستے مسدود ہو گئے ہیں
اب دیکھیے کیونکے راہ نکلے

پلکیں نہیں چھوڑتیں کہ اک دم
آنکھوں سے تری نگاہ نکلے

اے آہ تو لے تو چل علم کو
تا آنسوؤں کی سپاہ نکلے

نکلا میں گلی سے اس کی اس طرح
جیسے کوئی دادخواہ نکلے

وہ سوختہ میں نہیں کہ جس کی
تربت سے گل و گیاہ نکلے

شعر اپنے جو مصحفیؔ پڑھوں میں
منہ سے ترے واہ واہ نکلے