EN हिंदी
جب اپنے وعدوں سے ان کو مکر ہی جانا تھا | شیح شیری
jab apne wadon se un ko makr hi jaana tha

غزل

جب اپنے وعدوں سے ان کو مکر ہی جانا تھا

قیصر خالد

;

جب اپنے وعدوں سے ان کو مکر ہی جانا تھا
ہمیں بھی ساری حدوں سے گزر ہی جانا تھا

لہو کی تاب سے روشن تھا کاروان حیات
فریب دینے سے بہتر تو مر ہی جانا تھا

نہ رکھ سکے سر سودائے عشق کی توقیر
بلند رکھتے خوشی سے جو سر ہی جانا تھا

لہو کی آگ اسیری میں سرد ہو کے رہی
اسی لیے ہمیں زنداں سے گھر ہی جانا تھا

جو انتشار‌ وجود زیاں ہی تھا مقسوم
چراغ نور کی صورت بکھر ہی جانا تھا

نہ مل سکی کہیں گھر سے سوا ہمیں وحشت
پلٹ کے اس لیے قدموں کو گھر ہی جانا تھا

ہوئی جو زیر و زبر زیست یوں مسائل سے
غرور عشق کا دریا اتر ہی جانا تھا

اگرچہ ملتا بھی ان کو انہی سا سودائی
فریب دوستی خالدؔ کے سر ہی جانا تھا