جادۂ عشق میں گر گر کے سنبھلتے رہنا
پاؤں جل جائیں مگر آگ پہ چلتے رہنا
جلوۂ امن تمہیں سے ہے محبت والو
مہر تاباں کی طرح روز نکلتے رہنا
نغمۂ عشق نہ ہو ایک ہی دھن پر قائم
وقت کے ساتھ ذرا راگ بدلتے رہنا
زندگی کو مہ و انجم نہ اجالا دیں گے
تم نہ ان جھوٹے کھلونوں سے بہلتے رہنا
ہے یہی وقت عمل جہد مسلسل کی قسم
بے سہاروں کی طرح ہاتھ نہ ملتے رہنا
زندگانی ہے فقط گرمئ رفتار کا نام
منزلیں ساتھ لیے راہ پہ چلتے رہنا
ہے ستاروں کی طرح مائل پرواز شکیلؔ
دشمنو تم کو قسم ہے یوں ہی جلتے رہنا
غزل
جادۂ عشق میں گر گر کے سنبھلتے رہنا
شکیل بدایونی

