EN हिंदी
اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کون | شیح شیری
itne unche martabe tak tujhko pahunchaega kaun

غزل

اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کون

قتیل شفائی

;

اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کون
میں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کون

تیرے رستے میں کھڑی تھیں کون سی مجبوریاں
میں سمجھ لوں گا مگر دنیا کو سمجھائے گا کون

مل رہی ہے جب ہمیں اک راحت آوارگی
لوٹ کر اس انجمن سے اپنے گھر جائے گا کون

میری معزولی کی سننا چاہتے ہیں سب خبر
سوچتا ہوں جانشیں بن کر مرا آئے گا کون

چاہتا ہوں ایک چنگاری میں اس چقماق سے
لیکن اس پتھر سے آخر مجھ کو ٹکرائے گا کون

نیک لوگوں کے لیے موجود ہو تم اے خضر
میں اگر بھٹکا تو مجھ کو راہ پر لائے گا کون

اس کے وعدوں میں قتیلؔ اک حسن اک رعنائی ہے
وہ نہ ہوگا جب تو اس سا مجھ کو بہلائے گا کون