عشق کو بار زندگی نہ کہو
بات اتنی بھی بے تکی نہ کہو
دل کو جس میں ہو فکر سود و زیاں
اس تجارت کو عاشقی نہ کہو
کچھ تو مرنے کا حوصلہ دکھلاؤ
صرف جینے کو زندگی نہ کہو
دل لگی کے سوا بھی کچھ ہے عشق
عشق کو محض دل لگی نہ کہو
کچھ نہ کہہ کر بھی اپنے دل کی بات
یوں بہ انداز خامشی نہ کہو
سب کہو پر ہمیں خدا کے لئے
اپنے محفل میں اجنبی نہ کہو
جس کو کچھ آدمی کا درد نہ ہو
ایسے ظالم کو آدمی نہ کہو
دل کو بخشے جو زندگی منشاؔ
تم تو اس غم کو غم کبھی نہ کہو
غزل
عشق کو بار زندگی نہ کہو
محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

