EN हिंदी
اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ | شیح شیری
is tarah aata hun bazaron ke beach

غزل

اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ

فرحت احساس

;

اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ
جیسے نیند آ جائے بیداروں کے بیچ

میں مسلسل ملتوی ہوتا ہوا
ہر گھڑی ہر گام طیاروں کے بیچ

لڑکھڑانے لگتی ہیں سانسیں مری
ہر نفس ہر حال ہمواروں کے بیچ

یاد صحرا کی ہجوم شہر میں
زندگی کا خواب بیماروں کے بیچ

خود بہ خود بند قبا کھلتے ہوئے
حیرت اقرار انکاروں کے بیچ

ہم خود افسانے کے باہر ہو گئے
مر ہی جاتے ایسے کرداروں کے بیچ

ہم علمبردار اپنے جہل کے
مکتبوں کے علم برداروں کے بیچ

فرحتؔ احساس آ گیا کیا بزم میں
سادگی آئی ہے ہوشیاروں کے بیچ