اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے
یہ وہ دریا ہے جسے پار نہیں کر سکتے
آپ چاہیں تو کریں درد کو دل سے مشروط
ہم تو اس طرح کا بیوپار نہیں کر سکتے
جان جاتی ہے تو جائے مگر اے دشمن جاں
ہم کبھی تجھ پہ کوئی وار نہیں کر سکتے
جتنی رسوائی ملی آپ کی نسبت سے ملی
آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے
آپ کر سکتے ہیں خوشبو کو صبا سے محروم
اور کچھ صاحب کردار نہیں کر سکتے
ایک زنجیر سی پلکوں سے بندھی رہتی ہے
پھر بھی اک دشت کو گل زار نہیں کر سکتے
یہ گل درد ہے اس کو تو مہکنا ہے حضور
آپ خوشبو کو گرفتار نہیں کر سکتے
غزل
اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے
ایوب خاور

