انتخاب نگہ شوق کو مشکل بھی نہیں
کوئی آئینہ ترا آج مقابل بھی نہیں
کون سے گل کی خبر باد سحر لائی ہے
صحن گلشن میں کہیں شور عنادل بھی نہیں
جانے اب کون سی منزل میں میں ارباب جنوں
دور تک دشت میں آواز سلاسل بھی نہیں
تیر آتے ہیں کمیں گاہ سے میری جانب
میری تقدیر میں کیا جلوۂ قاتل بھی نہیں
تجھ سے اور چشم توجہ کا گلا کیا معنی
تیرا فطرت ترے اخلاص کے قابل بھی نہیں

غزل
انتخاب نگہ شوق کو مشکل بھی نہیں
فطرت انصاری