علم کس کو تھا کہ ترسیل ہوا رک جائے گی
اگلے موسم تک مری نشو و نما رک جائے گی
ہو چکے گا دفعتاً ذوق سماعت مختلف
آتے آتے میرے ہونٹوں تک صدا رک جائے گی
تو ہی کیوں نادم ہے اتنی میرے گھر کی آبرو
کس کے سر پر ایسی آندھی میں ردا رک جائے گی
اب تماشا دیکھنے والوں میں ہم سایہ بھی ہے
ٹوٹتی چھت میرے چلانے سے کیا رک جائے گی
کارواں کو گھیر ہی لے گا سکوت ریگزار
گونجنے سے قبل ہی بانگ درا رک جائے گی
کل نہ ہوگا کوئی اس بستی میں میرا منتظر
کل مرے تلووں ہی میں آواز پا رک جائے گی
کیا تحفظ دے سکے گی مجھ کو وضع احتیاط
کیا دریچے موند لینے سے بلا رک جائے گی
غزل
علم کس کو تھا کہ ترسیل ہوا رک جائے گی
نشتر خانقاہی