EN हिंदी
اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں | شیح شیری
ek nafas nabud se bahar zara rahta hun main

غزل

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل

;

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتہ رہتا ہوں میں

جتنی باتیں یاد آتی ہیں وہ لکھ لیتا ہوں سب
اور پھر ایک ایک کر کے بھولتا رہتا ہوں میں

گرم جوشی نے مجھے جھلسا دیا تھا ایک دن
اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں

خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے
اور ناموجود کی دھن میں لگا رہتا ہوں میں

جتنی گہرائی ہے عادلؔ اتنی ہی تنہائی ہے
بس کہ سطح زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں