اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے
پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے
کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب
چلنے سے پہلے زاد سفر دیکھ لیجئے
ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی
گر آپ میرا زخم جگر دیکھ لیجئے
سب کی طرف ہے آپ کی چشم نوازشات
کاش ایک بار آپ ادھر دیکھ لیجئے
تارے میں توڑ لاؤں گا آکاش سے مگر
شفقت سے آپ بازو و پر دیکھ لیجئے
جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ
کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے
ہو جائے گی حقیقت شمس و قمر عیاں
ان کو نگاہ بھر کے اگر دیکھ لیجئے
یہ برق حادثات بھی کیا ظلم ڈھائے گی
اٹھنے لگے گلوں سے شرر دیکھ لیجئے
عاجزؔ چلی ہیں ایسی تعصب کی آندھیاں
اجڑے ہوئے نگر کے نگر دیکھ لیجئے
غزل
اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے
عاجز ماتوی